الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جعلی رسید سے جمع کردہ چندہ کا مصرف

سوال

ایک شخص نے جعلی رسید لے کر مدرسہ کا چندہ کیا۔ حالانکہ مدرسہ بھی نہیں ہے۔ وہ شخص شبہ کی وجہ سے پکڑا گیا اور اس سے مدرسہ کی تصدیق طلب کی گئی جس کی وجہ سے وہ رات ہی میں فرار ہو گیا اور مبلغ ایک سو چالیس روپیہ و رسید چھوڑ کر بھاگا۔ اب اس رقم کا مصرف کیا ہے؟

جواب

دوسرے کسی دینی مدرسہ میں ایسی رقم کا خرچ کرنا درست ہے۔ اگر وہ مدرسہ موجود ہے جس کے نام پر چندہ کیا گیا ہے تو اسی میں دیدیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو