الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چندہ سے خوشحال بچوں کی تعلیم

سوال

کسی مدرسہ میں باہر کے دو چار بچے داخل کر کے پورے علاقہ سے چندہ جمع کرتے ہیں اور ان غریب بچوں کی آڑ میں خوشحال آدمیوں کے بچے بھی پڑھتے ہیں اور سال بھر میں زیادہ سے زیادہ دو چار روپیہ دیتے ہیں خوشحال بچے والے اور مدرس کی تنخواہ پچاس روپیہ ہے۔ اور ایک دو سفیر بھی رہتے ہیں تو سال بھر کا ان اشخاص کی تنخواہ اٹھارہ سو روپیہ ہوتی ہے جس میں پچاس ساٹھ طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

جواب

اصل یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی اولاد کے لئے دینی تعلیم کا انتظام لازم ہے۔ لیکن جب مسلمانوں کو اس کا احساس نہ رہے یا وہ مجبور و معذور ہوں تو لا محالہ چندہ سے انتظام کیا جائے گا، جو حضرات تعلیم دیتے ہیں وہ اپنے اور متعلقین کے نفقات واجبہ ادا کرنے کے لئے چندہ کے پیسے سے تنخواہ لیں گے اور یہ تنخواہ انکی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو