مستحق طلباء کی آمد کی امید پر چندہ لینا
سوال
ایک مولوی صاحب نے ایک مدرسہ قائم کیا ہے جس میں خالص عربی فارسی کی تعلیم ہوتی ہے اور یہ علاقہ از روئے دینی تعلیم نابلد ہے، ہر قسم کا چندہ لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کچھ رقوم جمع ہو جائے تو یہاں پر کھانے کا انتظام کیا جائے گا۔ کیا اس امید پر ہر قسم کا چندہ لینا جائز ہے؟
جواب
اگر فی الحال غریب مستحق طلبہ کے لئے رقم نا کافی ہونے کی وجہ سے کھانے کا انتظام نہیں اور وہ اس کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس کا انتظام کریں اور اس کی غالب توقع ہے تو وہ ایسی رقم بھی لے سکتے ہیں مگر اس کا خیال رہے کہ جو رقم جس مد کے لئے لی جائے اسی مد میں اس کا خرچ کرنا ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔