طوائف کے بنائے ہوئے مکان کو مدرسہ کیلئے کرایہ پر لینا
سوال
ایک طوائف نے اپنی کسی حرام آمدنی سے ایک مکان تعمیر کیا آیا اس مکان کو بغرض مدرسہ اسلامیہ کہ جس میں قرآن شریف وحدیث وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے کرایہ پر لینا جائز ہے یا نہیں نیز مکان مذکورہ میں نماز جماعہ اور منفردا ادا کرنا کیسا ہے۔
جواب
یہ امر ظاہر ہے کہ زنا کی اجرت حرام ہے رنڈی اس کی مالک نہیں ہوتی۔ اصل مالک کو اور اس کی عدم موجودگی کے وقت اس کے ورثہ کو واپس کرنا ضروری ہے اگر ان میں سے کوئی نہویا علم نہو تو تصدق بہ نیت گلو خلاصی واجب ہے اگر رنڈی کے پاس حلال مال بھی تھا اور حرام بھی اور ان دونوں کے مجموعہ سے مکان کو تعمیر کیا ہے تو حرام کو حلال کے ساتھ خلط کر دینے سے ملک متحقق ہو گئی (اگر چہ حرام کا ضمان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔