الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کبڈی کا مقابلہ شرط کے ساتھ اور اس کا انعام مدرسہ میں

سوال

اس شہر میں کبڑی کھیلنے کا بہت شوق ہے، ہر محلہ میں کبڈی کی ٹیمیں ہیں جو آپس میں مقابلہ کرتی ہیں، جس میں ہر ٹیم فیس ادا کرتی ہے اور پھر وہ روپیہ کسی دینی مدرسہ میں دے دیتے ہیں، ظاہر ہے کہ کبڈی کے کھیل میں ہار جیت بھی ہوتی ہے، تو اس قسم کی رقم مدرسہ میں خرچ کرنا درست ہے؟ کبڈی میں لوگ ستر کھول کر کھیلتے ہیں، تو کیا از روئے شریعت درست ہے؟

جواب

ہار جیت کی رقم کا معاملہ اگر دونوں طرف سے ہے تو نا جائز ہے، ایسی رقم کی واپسی ضروری ہے، جس سے لی ہے اسی کو واپس کر دیں، کسی مدرسہ وغیرہ میں نہ دیں۔ اگر ہار جیت کی رقم کا معاملہ ایک طرف سے مثلاً اس طرح کہ اگر فلاں ٹیم جیت گئی تو دوسری ٹیم اس کو اتنی رقم دے گی، اگر ہارگئی تو کچھ نہیں، یا کوئی تیسرا شخص انعام کا وعدہ کر کے جو ٹیم جیت جائے گی اسکو انعام دیا جائیگا، یہ جائز ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو