الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اہل ہنود اور بازاری عورت کی امداد مدرسہ میں

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسائل ذیل کے بارے میں۔ (۱) پاکستان کے باشندے اہل ہنود اپنی حلال کمائی سے بطیب خاطر بلا جبر وا کراہ مقامی ایک اسلامی مدرسہ میں جس میں علاوہ دینیات کے بنگلہ، انگریزی وحساب وغیرہ کی تعلیم بھی ہوتی ہے کچھ امداد کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مدرسے میں مختلف قسم کے کام بھی ہور ہے ہیں جیسے بیت الخلاء کا پختہ کرنا تالاب کے گھاٹ و درسگاہ اور اس کے صحن وغیرہ پختہ کرنا گھروں کا بندو بست کرنا اب دریافت طلب یہ ہے کہ اہل ہنود کی امداد کو مدرسہ کے ان کاموں میں لگا نا درست ہے یا نہیں۔ (۲)

جواب

(۱) جب وہ ثواب سمجھ کر بلا جبر وا کراہ اپنی رغبت سے دیں اور کوئی مفسدہ بھی نہ ہو لینا شرعاً درست ہے۔ فقہاء نے وصایا ذمی کے متعلق ایسا ہی لکھا ہے خاص کر جب کہ مدرسہ و مسجد کے مہتم و متولی کو دیدے تو اس کو ان تمام مواقع میں صرف کرنا شرعاً درست ہے۔ (۲) اس کا جواب بھی مثل جواب (۱) کے ہے۔ (۳) اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (۵)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو