مدرسہ کے کرایہ داروں کا پیشہ باجہ بنانا ہے تو اس آمدنی سے اخراجات مدرسہ
سوال
مدرسہ کی جائیداد کے کرایہ دار اکثر ایسے ہیں جن کا کام باجہ بنانے یا بنوانے یا باجہ فروخت کرنے کا ہے۔ دو یا تین کرایہ دار ایسے بھی ہیں جن کی تجارت دوسری ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جائیداد کا جو کرایہ آتا ہے اس سے مدرسے کے اخراجات، تنخواہ مدرسین و تعمیرات وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کیا شکل ہے؟
جواب
باجہ بنانا، فروخت کرنا مکروہ ہے۔ اس کی آمدنی حرام کے درجہ میں نہیں مکروہ کے درجہ میں ہے۔ مجموعی کرایہ کی آمدنی کو ضروریات مدرسہ میں صرف کر سکتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔