تاجر شراب سے مدرسہ کیلئے چندہ
سوال
شراب کے پیسہ میں الجھن یہ ہے کہ بعض علماء شراب کو حرام کہہ کر لین دین سے منع کرتے ہیں مگر مدرسہ میں چندہ لیتے ہیں اور کھاتے پیتے بھی ہیں اور شراب کے کاروبار کرنے والے کے یہاں کھڑے ہوتے ہیں اور ان ہی پیسہ کو یہ کہہ کر بھی لیتے ہیں کہ اس پیسہ سے حدیث و تفسیر منگوا کر مدرسہ میں لڑکوں کو دیدیں گے، وہ پڑھیں گے تو ثواب ملے گا اور ان ہی کے یہاں کھاتے پیتے ہیں نیز ہندوستان دارالحرب ہے وغیرہ اور سمجھاتے ہیں کہ ہر طرح یہ پیسہ حرام ہے یہ کسی طرح مسلمان کیلئے جائز نہیں اس پر ایسے پیسے والے مطعون کرتے ہیں فلاں فلاں حضرات اس کو…
جواب
شراب بیچنے اور خریدنے والے پر حدیث میں لعنت آئی ہے اس کی بیع مسلم کے حق میں بیع باطل ہے۔ اس کی قیمت پر ملک ثابت نہیں ہوتی یہ معلوم ہو کہ فلاں شخص کے پاس روپیہ خالص حرام کا ہے وہ روپیہ لینا اور کھانا ہرگز جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔