مدرسہ کا روپیہ تبلیغ میں خرچ کرنا
سوال
(۱) مدرسہ کا روپیہ تبلیغ میں خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) مدرسہ کے نام سے جو کچھ وصول ہوتا ہے روپے دھان چاول پاٹ آلو پیاز وغیرہ ان سب چیزوں سے تبلیغ کے مہمانوں اور مبلغین اور سامعین کو کھلانا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ (۳) مدرسہ کے روپے سے کسی آدمی یا مبلغ کو خرچہ دے کر کلکتہ دہلی وغیرہ کسی مرکز یا اجتماع میں بھیجنا جائز ہے یا نہیں؟ (۴) روزانہ جو مٹھی کھانا پکنے کے وقت نکالی جاتی ہے (مدرسہ کے نام) وہ چاول یا آٹا تبلیغ میں خرچ کرنا اور تبلیغ والوں کو کھلانا کیسا ہے؟
جواب
(۱) جو روپیہ مدرسہ میں طلباء کے کھانے کپڑے کیلئے دیا گیا ہے اس کو تبلیغ میں باہر بھیج کر خرچ نہ کیا جائے۔ (۲) یہ چیزیں بھی طلباء پر خرچ کرنے کیلئے دی گئی ہوں تو انکو مواقع مسئولہ پر خرچ نہ کریں۔ (۳) اس کا جواب (۱) سے ظاہر ہے۔ (۴) اس کا جواب (۲) میں آگیا غلہ وغیرہ دینے والوں کو اگر بتا دیا جائے کہ اس کو تبلیغ وغیرہ میں بھی خرچ کیا جائے اور وہ اس کی اجازت دیدیں تو درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔