تبدیل نیت کا وکیل کو حق نہیں
سوال
ایک شخص کے بھائی نے مدرسہ کے واسطے روپیہ بھیجا۔ اسی کا بھائی اب کہتا ہے کہ مدرسہ کے منتظمین صحیح استعمال نہیں کرتے۔ اس لئے اس روپیہ کی کوئی چیز خرید کر جس کی مدرسہ میں ضرورت ہو مدرسہ میں دیدے تو کیسا ہے؟
جواب
جس نے مدرسہ کے لئے روپیہ بھیجا ہے اگر اس کی طرف سے اجازت ہو تو چاہے روپیہ دیدے یا چاہے کوئی چیز مدرسہ کی ضرورت کی خرید کر دیدی جائے تب تو یہ حق ہے کہ روپیہ نہ دے بلکہ حسب صواب دید کوئی چیز خرید کر دیدے۔ اگر اجازت نہ ہو تو پھر روپیہ ہی دینا چاہئے۔ اگر مدرسہ کے انتظام پر اعتماد نہیں تو بھائی کو مشورہ دے کر اجازت حاصل کرلے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔