الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تبدیل نیت کا وکیل کو حق نہیں

سوال

ایک شخص کے بھائی نے مدرسہ کے واسطے روپیہ بھیجا۔ اسی کا بھائی اب کہتا ہے کہ مدرسہ کے منتظمین صحیح استعمال نہیں کرتے۔ اس لئے اس روپیہ کی کوئی چیز خرید کر جس کی مدرسہ میں ضرورت ہو مدرسہ میں دیدے تو کیسا ہے؟

جواب

جس نے مدرسہ کے لئے روپیہ بھیجا ہے اگر اس کی طرف سے اجازت ہو تو چاہے روپیہ دیدے یا چاہے کوئی چیز مدرسہ کی ضرورت کی خرید کر دیدی جائے تب تو یہ حق ہے کہ روپیہ نہ دے بلکہ حسب صواب دید کوئی چیز خرید کر دیدے۔ اگر اجازت نہ ہو تو پھر روپیہ ہی دینا چاہئے۔ اگر مدرسہ کے انتظام پر اعتماد نہیں تو بھائی کو مشورہ دے کر اجازت حاصل کرلے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو