الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مدرسہ کا روپیہ دوسرے مدرسہ میں خرچ کرنا

سوال

بارات کے سمدھی (معطی) نے بعد تحقیق و تفتیش یہ واضح طور پر بتلایا کہ میں نے کھیڑے والی مسجد اور مدرسہ میں پچاس روپے لوجہ اللہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان روپیوں کو کسی دوسرے مدرسہ کے متولی نے عیاری سے لے لیا۔ استفتاء یہ ہے کہ ان روپیوں کا کھیڑے والی مسجد اور مدرسہ کے علاوہ کسی دوسری مسجد یا مدرسہ میں صرف کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ جبکہ معطی بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ میری یہ خیرات کھیڑے والے مدرسہ اور مسجد کے لئے ہے۔ شرعی حکم سے مطلع فرمائیں؟

جواب

جس جگہ خرچ کرنے کے لئے وہ روپیہ دیا ہے اسی جگہ خرچ کرنا لازم ہے۔ اگر دوسری جگہ خرچ کر دیا تو ضمان لازم ہوگا۔ اس لئے کہ متولی امین اور وکیل ہے معطی کی تصریح کے خلاف خرچ کرنے کا اس کا حق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو