مسجد مدرسہ کے لئے وقف کی گئی زمین پر تعمیر مسجد سے قبل واقف کا مدرسہ بنانے کی اجازت دینا
سوال
ایک صاحب خیر نے تقریباً ایک بیگہ زمین وقف کیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ میری زمین میں مسجد مدرسہ دونوں ہونے چاہئے، ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اہل مدرسہ نے تھوڑی سی زمین میں مسجد کی بنیاد بھی رکھدی، حالانکہ مدرسہ کے حالات کے پیش نظر اس جگہ مسجد کی بنیاد مناسب نہیں تھی، مدرسہ کی تنگی کو دیکھتے ہوئے واقف صاحب نے مسجد کی بنیاد کی جگہ جو کہ ابھی صرف بنیاد کی حد تک ہے، اس پر کسی قسم کی کوئی تعمیر نہیں ہوئی ہے، اور نہ ایسا کوئی کام کیا گیا ہے، جو مسجد ہونے پر دال ہو یہاں تک کہ آج تک کسی نے بھی اس میں نماز نہیں پڑھی…
جواب
اذا بنى مسجداً لا يزول ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلوة فيه ويصلى فيه واحد وفي رواية شرط صلواة بجماعة جهراً باذان واقامة حتى لو كان سراً بان كان بلا اذان ولا اقامة لا يصير مسجداً اتفاقاً لان اداء الصلواة على الوجه المذكور بالجماعة وهذه الرواية صحيحة كما في الكافی وغیرہ (مجمع الانہر، ص ۷۵۵ ج ۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔