اراضی و مکان کا وقف کرنا مدینہ منورہ کے مدرسہ کیلئے
سوال
(۱) میرے والد نے ایک تحفہ قطۂ آراضی مزروع اور ایک قطعہ مکان مدرسہ شرعیه واقع مدینہ منورہ کے لئے وقف کیا تھا، اور ناظم مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنو کو نگراں مقرر کیا تھا کہ سال به سال آمدنی آراضی و مکان کا مدینہ منورہ بھیجتے رہیں لیکن حکومت سعودیہ نے اس قسم کی آمدنی قبول کرنے سے انکار کر دیا لہذا ناظم ندوۃ بہ حسب صوابدید خود رقم مذکورہ ندوہ میں خرچ کرتے ہیں (وقف نامہ ہمراہ نوشتہ ہے) مہربانی فرما کر روشنی ڈالیں کہ یہ وقف ہے یا وصیت کیونکہ واقف نے وقف میں بعد موت کی قید لگا دی ہے۔ (۲)
جواب
نقل تحریر منسلکہ دیکھی وہ وصیت نامہ نہیں بلکہ وقف نامہ ہے واقف نے جائداد موقوفہ کی آمدنی کا تصرف اپنی حیات تک اپنے لئے محفوظ رکھا ہے، پھر متولی کو متعین کر دیا ہے اور مصرف وقف تجویز کر کے اس کو پابند کر رکھا ہے اب اگر تصریح وقف دفعہ ۲ کے تحت مدرسہ شرعیہ مدینہ منورہ (زادہا اللہ شرفاً وعظمۃً)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔