مدرسہ کے لئے دی ہوئی رقم اپنے رکھے ہوئے مدرس کو دینا
سوال
(۱) میں کمیٹی کی طرف سے بنایا ہوا ایک مدرسہ کا مہتم ہوں۔ زید مدرسہ کے نیچے کی منزل کا کرایہ دار ہے۔ مدرسہ کو کرایہ دیتا چلا آیا ہے۔ میری زید سے مخالفت ہوگئی۔ تو زید نے یہ عمل کیا کہ مدرسہ کے ایک کمرہ میں ایک مدرس کو اپنی ذمہ داری پر تعلیم کے لئے بٹھا دیا میں نے بوجہ فتنہ کوئی مخالفت نہیں کی۔ زید کے اوپر دو سال کا کرایہ مدرسہ کا واجب ہو گیا۔ اس سے کرایہ کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ میں تو اپنے رکھے ہوئے مدرس کو تنخواہ دیتا ہوں آپ کو نہیں دوں گا۔ اس کا یہ عمل کیسا ہے؟
جواب
(۱) حسب معاہدہ زید کے ذمہ کرایہ کا ادا کرنا واجب ہے۔ اپنی ذمہ داری پر کسی مدرس کو تنخواہ دینے سے کرایہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ اگر بطور چندہ مدرسہ میں وہ روپیہ یا سامان دے یا طلباء کو کھانا دے اس سے بھی کرا یہ ساقط نہیں ہو گا۔ (۲) جو چیز رقم وغیرہ کسی نے اس کو مدرسہ میں دینے کے لئے دی ہے وہ چیز امانت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔