الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کی آمدنی ذاتی ضرورت میں خرچ کرنا بطور قرض / موقوفہ کتب کو ایک مدرسہ سے دوسرے مدرسہ میں منتقل کرنا

سوال

ایک قدیم مدرسہ ہے جسمیں بہت سی کتب ہیں اس وقت وہ بند ہے کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ دیمک کی زندگی کی نذر ہو رہی ہیں۔ تو کیا شرعی رو سے اگر کوئی شخص جو کسی دوسرے مدرسہ میں پڑھ رہا ہو ان سے استفادہ کر سکتا ہے؟ یا ایک مدرسہ جو جاری ہے البتہ وہ کتب جن کی ضرورت ہے اس وقت رکھی ہوئی ہیں، کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے فی الحال مدرسہ کو ضرورت ہے، تو کیا کسی کو بطور استفادہ دے سکتے ہیں؟ واپسی ہر حالت میں ضروری ہے بعد استفادہ کے جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں۔

جواب

واقف و مہتمم مدرسہ اور دیگر اصحاب رائے باہمی مشورہ کر کے ان کتب کو ایسے مدرسہ میں منتقل کر سکتے ہیں جہاں ان سے استفادہ کیا جاسکے اور دیمک سے بھی حفاظت ہو جائے، واقف کا مقصد بھی فی الجملہ حاصل ہو۔ جیسا کہ در مختار کی جزئیات سے مستفاد ہوتا ہے۔ دوسرے مدرسہ میں پڑھنے والا قابلِ اطمینان ہو کہ کتابیں واپس کر دے گا تو اس کو استفادہ کے لئے دینا بھی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو