مدرسہ کے روپیہ سے تجارت
سوال
درس نظامی کورس کے مطابق ایک خالص دینی مدرسہ ہے اس مدرسہ میں مختلف عطایا بطور امداد کے لوگ دیتے ہیں مثلاً زکوۃ، صدقہ فطر، چرم قربانی اور اس کی قیمت، منت وغیرہ کی اور وہ روپیہ مدرسہ۔ مدرسہ کے لڑکوں کے کھانے وغیرہ میں خرچ ہوتا ہے۔ لیکن مدرسہ کے سکریٹری صاحب نے مدرسہ کے مفاد کے لئے تجارت کی نیت سے کئی ہزار روپیہ مدرسہ کے فنڈ سے لے کر گول آلو خرید کر برف گھر میں رکھ دیئے۔ کئی مہینہ کے بعد جب بیچنے کا ارادہ کیا اس وقت آلو کا دام بازار میں گر گیا تھا جس سے سولہ سو روپیہ کا نقصان ہوا۔
جواب
اس سے تجارت کرنا جائز نہیں، جتنا نقصان ہوا اس کا ضمان سکریٹری پر لازم ہوگا۔ اگر وہ روپیہ زکوۃ کا تھا تو اتنی مقدار زکوۃ دینے والوں کو واپس کرے۔ اگر وہ لوگ پھر دیدیں کہ اس کو طلباء پر خرچ کر دو تو مستحق طلباء کے لئے اس روپیہ سے کھانے کپڑے کا انتظام کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔