مدرسہ کی رقم سے تجارت اور عمارت مدرسہ پر مسجد
سوال
(۱) ایک مدرسہ میں مدرسہ کی تحویل سے تحویل دار غلہ وغیرہ خرید لیتے ہیں، اگر نفع ہوتا ہے تو مدرسہ کو دیتے ہیں، نقصان کو وہ اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں، کیا یہ طریقہ درست ہے؟ (۲) ایک شخص نے مدرسہ کی عمارت میں اوپر کی منزل پر مسجد بنوائی ہے، یوں کہتے ہیں، کہ محلہ کی مسجد میں لوگ طلباء پر اعتراض کرتے ہیں کہ بدھنی توڑتے ہیں، شور کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، کیا یہ شرعاً مسجد کے حکم میں ہے؟ اور اگر محلہ کا کوئی شخص اس مسجد میں نماز پڑھے تو اس کو مناسب ہے یا نہیں؟
جواب
تحویلدار امین ہے اس کو امانت کے روپیہ میں اس طرح تصرف کرنے کا حق نہیں، آئندہ احتیاط رکھے۔ (۲) یہ شرعی مسجد نہیں جبکہ تحتانی منزل مدرسہ کی ہے، یہاں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ہوگا، مگر نماز ادا ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔