الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کا روپیہ اپنے کام میں خرچ کرنا بطور قرض

سوال

مدرسہ کے روپے پیشگی چھ سو سات روپے اپنے کام میں خرچ کر دینا جائز ہوگا۔ مدرسہ کے کام کے وقت نہ دے سکے اور ہر مہینہ کی تنخواہ میں کاٹ دیا جائے۔

جواب

جس کے پاس مدرسہ کا روپیہ امانت رکھا ہو اس کو وہ روپے اپنے کام میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ یہ خیانت ہے جو کہ بروئے حدیث منافق کی علامت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو