اساتذہ کا امتحانی کاپیوں کو فروخت کرنا
سوال
مکاتب کے امتحان سہ ماہی و سالانہ وغیرہ طلبہ سے کاپیاں بنوائی جاتی ہیں طلبہ امتحان کے بعد وہ کاپیاں اساتذہ کے پاس جمع کر دیتے ہیں بلکہ اساتذہ جمع کر لیتے ہیں، پھر ان کو حسب موقع فروخت کر کے قیمت خود استعمال کر لیتے ہیں۔ کیا شرعاً یہ درست ہے؟
جواب
اگر استاد کی خدمت میں وہ ہدیہ پیش کر دیتے ہیں تو حسب قاعدہ شرعیہ ہبہ تام ہونے پر موہوب لۂ کو ان کاپیوں کے اوراق کی قیمت کا اپنے کام میں لانا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔