الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دینی مدرسہ کیلئے وقف شدہ زمین کی پیداوار اسکول میں دینا

سوال

والد مرحوم نے اپنی حیات میں ایک دینی مدرسہ کی خدمت کے واسطے مدرسہ میں زمین وقف کی تھی، پہلے دینی تعلیم اور اسی کورس کی تعلیم ہوتی تھی، چند سال بعد ممبرانِ مدرسہ نے اسے بدل کر انگریزی ہندی شامل کر کے پورا ہائر سکنڈری کورس کے مطابق چلایا، اس وقت وہ کالج ہے، طلبہ کی وضع قطع بالکل بدل گئی، گورنمنٹ کی طرف سے روپیہ مدرسہ کو ملتا ہے، سرکاری امتحانات ہوتے ہیں سرکاری مشورہ سے نصاب میں ترمیم و تنسیخ بھی ہوتی ہے، والد صاحب اس وقت مخالف ہوئے اور ممبری سے استعفاء دیدیا اور وقف زمین کی پیداوار غلہ دھان وغیرہ بجائے اس مدرسہ میں…

جواب

جس دینی خدمت کیلئے آپ کے والد مرحوم نے وہ زمین مدرسہ کو دی تھی جب وہ خدمت وہاں نہیں رہی بلکہ اسکے خلاف کا سلسلہ قائم ہو گیا، اور والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خود بھی اس جگہ اس زمین کا غلہ دینا بند کر دیا تو آپ سب بھی وہاں غلہ نہ دیں بلکہ دینی تعلیم پر خرچ کریں غرض واقف کی رعایت لازم ہوتی ہے، جیسا کہ بحر، تبیین، رد المحتار وغیرہ میں موجود ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو