مدرسہ کی زمین میں مسجد بنانا
سوال
عام مسلمانوں نے مدرسہ بنانے کے لئے چندہ کر کے ایک زمین خریدی اور اس زمین پر مدرسہ کی عمارت بھی بنائی گئی، اور اس میں تعلیم بھی عرصہ ۱۵ سال سے جاری ہے، مدرسہ کا نام مدرسہ اسلامیہ ہے اور اوقاف بورڈ میں ہے، مدرسہ کے نام سے اب تک چندہ بھی مسلمانوں سے کیا جاتا ہے، اب شہر رامپور کے کچھ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ مدرسہ کی عمارت جس میں دینی تعلیم ہوتی ہے، جو موقوفہ ہے اور بنام مدرسہ ہے مدرسہ کی عمارت توڑ کر اس پر مسجد بنائیں گے، شرعا مسجد مدرسہ کی موقوفہ زمین پر بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جبکہ چندہ مدرسہ کے لئے کیا گیا اور اسی نیت سے دینے والوں نے دیا ہے، اور اس پیسے سے زمین خرید کر مدرسہ کے لئے اس کو وقف کر دیا گیا، اور پھر مدرسہ تعمیر کر دیا گیا، اور اس میں دینی تعلیم جاری ہے، تو اب اس کو گرا کر مسجد کو تعمیر کرنا یا مسجد کے لئے اس کو خریدنا ہرگز جائز نہیں ہے، حتی کہ مدرسہ کی آمدنی مسجد میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں، فاذا تم (الوقف)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔