الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد نما اور درمیان میں قبر بنانے کا حکم

سوال

ایک شخص تعلیم یافتہ نہیں ہے، ہاں نماز پڑھانے کے لئے چند سورتیں یاد ہیں اس کو بھی صحیح طریقہ پر نہیں پڑھتا، اگر کوئی کہتا ہے تو غیر مسلموں کا سہارا لے کر مسلمانوں کی مخالفت اس درجہ میں کرتا ہے کہ ان کو موقع پا کر گرفتار بھی کرا دیتا ہے، اس بناء پر اہل مسجد نے انکے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی، اور جب وہ نہیں گیا تو وہاں سے مسلمین نے اس کا بائیکاٹ کر دیا، اب مسلمانوں میں سے کوئی اس کا ہم نوا نہیں رہا لیکن چونکہ غیر مسلم کے اس کے ہمدرد ہیں اس بناء پر غیر مسلموں کے روپے سے ایک مزار کے اوپر مسجد کا نمونہ بنا کر بیٹھا ہے،…

جواب

اگر وہ جگہ مسجد بنانے اور نماز پڑھنے کے لئے نہیں دی گئی بلکہ مالک کی اجازت و منشاء کے خلاف ایک شخص نے مسجد نما بنالی ہے اور قبر درمیان میں ہے کہ فرش پر جب نماز پڑھنے والے سجدہ کرتے ہیں تو قبر کی طرف سجدہ ہوتا ہے تو وہاں نماز نہ پڑھی جائے اور اس شخص کو امام نہ بنایا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو