الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے نام پر دینی درسگاہ بنانا

سوال

یہاں کے مسلمانوں کا ارادہ ہے کہ اس شہر میں اسلامی مسجد بچوں کیلئے دینی درسگاہ قائم کی جائے جس کے لئے مسجد تعمیر کمیٹی نے کام شروع کیا ہے، لیکن تعمیر کمیٹی میں سے چند افراد کا ارادہ ہے کہ اگر یہاں کی حکومت کو یہ بتلایا جائے کہ مسلمانوں کی جماعت یہاں پر ایک مشرقی وضع قطع پر یوتھ سینٹر تعمیر کرنا چاہتی ہے، اس طرح جمع شدہ رقم پر حکومت اور لوکل کارپوریشن سے ۷۵ فی صد گرانٹ ملنے کا کافی امکان ہے، لیکن اس کے برعکس اگر یہ بتلایا جائے کہ ہم لوگ مسجد بنانے والے ہیں، تو حکومت مذہب کے نام سے کچھ بھی مدد دینے کے لئے تیار نہیں…

جواب

مسجد وہ جگہ ہے جس کو نماز کیلئے وقف کر دیا جائے، اس پر کسی کو مالکانہ تصرف کا حق نہ ہو، اس کا راستہ بھی الگ ہو ایسا نہ ہو کہ راستہ کسی کے مکان کے اندر ہو اور وہ جب چاہے اپنا مکان بند کر دے اور مسجد میں آنیوالے نہ آسکیں، وہاں اذان و جماعت کی اجازت ہو، پھر وہ جگہ مستقل کسی دوسرے کام (تعلیم وغیرہ)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو