اپنے مکانات فروخت کرنا جس سے کہ مسجد ویران ہو جائے
سوال
(۱) ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں تقریباً دو سو سال سے مختلف قوم کے لوگ رہتے ہیں، اس میں سوڈیڑھ سو گھر مسلمانوں کے بھی ہیں، اس گلی میں ایک مسجد بھی ہے، کئی سال محلہ اور مسجد آبادرہی، اب کسی وجہ سے مسلمان ایک ایک کر کے اپنے گھروں کو غیر قوم یعنی کفار کے ہاتھ فروخت کر کے جارہے ہیں، یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو مسجد ویران ہو جائے گی، تو مسجد کا خیال نہ کرتے ہوئے اس طرح مکانات فروخت کرنا کیسا ہے؟ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اہل ثروت حضرات اس ویران ہونے والی مسجد کا خیال رکھ کر آباد کرنا چاہتے ہیں، تو آباد کر سکتے ہیں؟
جواب
(۱) جہاں تک جواز بیع کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے کہ مالک کو اپنی ملک فروخت کرنے کا حق حاصل ہے، اور بطریق شرعی ایجاب و قبول سے بیع صحیح ہو جائے گی، لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ان کو اس کا لحاظ چاہئے کہ بغیر مجبوری کے ایسا نہ کریں، مجبوری کی حالت میں تو ہجرت بھی ثابت ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔