الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی تعمیر کیلئے زبردستی چندہ لینا

سوال

ایک گاؤں ہے، جس کے باشندے نہایت ہی گمراہی میں مبتلا ہیں، زنا کاری سودخوری، شراب نوشی عام ہے، اس گاؤں میں ایک مسجد تعمیر ہوئی ہے، جس کا چندہ زبر دستی وصول کیا تھا، آیا اس صورت میں مسجد کی تعمیر درست ہے یا نہیں؟ نیز اس مسجد میں نماز درست ہے، یا نہیں؟ جبکہ گاؤں کے لوگ نہایت ہی غربت میں مبتلا ہیں، نیز کسی غیر مسلم کے چندے سے مسجد کی تعمیر درست ہے یا نہیں؟ اس مسجد میں نماز درست ہوگی یا نہیں؟

جواب

یہ اعمال بھی غضب خداوندی کے موجب ہیں، اور زبر دستی چندہ وصول کرنا بھی منع ہے جن لوگوں سے زبر دستی چندہ لیا گیا وہ اب معاف کر دیں، اور خدا کے نام پر دیئے ہوئے پیسہ کو قبول کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اس مسجد میں سب ہی آکر گناہوں سے توبہ کریں، اعمال قبیحہ سے باز آ جائیں، نماز اس مسجد میں درست ہوگی، غیر مسلم سے تعمیر مسجد کیلئے چندہ مانگنا بڑی بے غیرتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو