مسجد کیلئے چندہ دیکر واپس لینا
سوال
(۱) مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں بہت سے لوگوں نے چندہ دیا تھا، اور امداد کی تھی، مسجد کی تعمیر کی اجازت ہر محلہ جات کے سربرآوردہ اصحاب سے لی گئی، تو فرمایا کہ بسم اللہ کرو اور کام شروع کرو، پھر کچھ اختلاف ہو گیا، جس سے وہ لوگ اپنا چندہ جو اسی مسجد کیلئے دیا تھا، اور مسجد کی تعمیر کے بہت سے سامان بھی خرید لئے گئے تھے، ایسی صورت میں شرعاً وہ لوگ کیا اپنی امداد اور زر چندہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں، اور متولی مسجد پر کیا یہ ذمہ داری عائد ہوسکتی ہے کہ وہ ان کا چندہ واپس کر دے اور متولی کو شرعاً اس کا اختیار حاصل ہے یا…
جواب
(۱) جبکہ وہ چندہ سب کا مخلوط ہے اور اس کا سامان بھی خرید لیا گیا ہے تو اب واپس لینے کا حق نہیں رہا، نہ متولی کو واپس دینے کا حق ہے۔ (۲) اس چندہ کا حکم بھی مثل نمبر ۲ کے ہے، ایسی مسجد کے قبلہ میں اتنے معمولی فرق سے نماز میں نقصان نہیں آتا اتنی اتنی باتوں پر تفریق کرنا اور مسجد کو چھوڑ نا شرعاً سخت مذموم و ممنوع ہے، ویسے ہی جگہ جگہ مسلمان مختلف صورتوں سے تباہ ہو رہے ہیں، لہذا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔