الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صحن مسجد سے درخت کاٹ کر برآمدہ برائے کرایہ بنانا

سوال

مسجد کی پورب کی جانب درخت لگے تھے، انہیں صاف کر کے صحن مسجد میں شامل کر دیا گیا، اس پر میری اور میرے بھائی کی رائے ہے کہ برآمدہ مسجد کے اندر بنا کر اوپر ایک کمرہ بنایا جائے، دوکان مسجد پر پاخانہ اور صدر دروازے کے آگے حال میں بنوائی جائے، اور ایک کرایہ دار نمازی بچے دار آباد کیا جائے، آبادی ہندوؤں کی ہے، نمازی آدمی رکھا جائے تاکہ مسجد میں بچے دار نماز وغیرہ پابندی سے ہوا کرے، اسکی بابت علماء دین کیا فرماتے ہیں؟

جواب

جس جگہ درخت تھے اگر وہ خارج مسجد تھی تو محض درختوں کو کٹوا کر چبوترہ مسجد کے برابر بنوا دینے سے وہ جگہ مسجد نہیں بنی، مگر اس پر چھت ڈال کر وہاں کوئی مکان اور بیت الخلاء وغیرہ اس بنوادیا جائے کہ اس کا راستہ دروازہ باہر کو رہے اور بد بو وغیرہ مسجد میں نہ آئے تو شرعاً اس کی اجازت ہے، پھر اس مکان کو کرایہ پر بھی دیا جا سکتا ہے، جو حصہ نماز کیلئے مخصوص ہے اس کے اوپر مکان بنانا اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو