مسجد کی زمین کو مدرسہ کے لئے کرایہ پر لینا
سوال
یہاں ایک عجیب رسم ہے کہ شادی بیاہ میں لوگ مسجد میں تو روپیہ دیتے ہیں، مگر مدرسہ کا نام لو تو زیادہ سے زیادہ ۲ روپیہ تو اس وقت ہمارے پاس مسجد کا روپیہ ۳۰۰ موجود ہے، اور مسجد میں کوئی ضرورت بھی نہیں ہے تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ حضرت والا سے دریافت کروں کہ مسجد ہی کے صحن کے کنارے تھوڑی سی زمین ہے وہ بھی مسجد ہی کی چہار دیواری کے اندر ہے، مگر صحن سے خارج ہے مثلاً نقشہ یہ ہے: تو کیا خالی زمین کیلئے اینٹ منگوا کر مسجد کے روپیہ سے ایک مکتب کی شکل میں قائم کر دوں جس سے بچے سکون سے تعلیم حاصل کر سکیں، لہذا حجره امام غسلخانه…
جواب
اگر وہ روپیہ مسجد کی مصالح کے لئے دیا گیا ہے، تو روپیہ دینے والے اور نمازیوں سے مشورہ کر کے اس خالی جگہ میں درسگاہ بنوادیں جو کہ مسجد کی ملک ہوگی، اور پھر اس کو مدرسہ کیلئے کرایہ ہوگی، پر لے لیں مدرسہ کرایہ مسجد کو ادا کرتا رہے، جس سے مسجد کا بھی فائدہ ہو اور بچوں کو تعلیم کی بھی سہولت ہو جائے، بچوں پر مختصر فیس مقرر کر دیں، جو بچے مستحق زکوۃ ہوں ان کو مد زکوۃ سے وظیفہ دیدیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔