مسجد کا تیل امام کیلئے
سوال
امام کو کوئی شئی مسجد کی اپنے تصرف میں لانا مثل تیل وغیرہ شرعاً کیسا ہے؟
جواب
اگر واقف نے اس کے متعلق امام کو اجازت دی ہے اور اس کی مقدار متعین کر دی ہے، اور امام غریب ہے تو امام کو بقدر تعین واقف اس کا صرف کرنا درست ہے، اور اگر واقف نے تو اجازت نہیں دی لیکن امام کی تنخواہ کا جز قرار دیا ہے، مثلاً ہر ماہ اتنے روپیہ اور اتنا تیل تنخواہ مقرر کی گئی ہے، تب بھی امام کو اس تعین کے ماتحت اس میں تصرف کرنا درست ہے، اگر کوئی معاملہ واقف سے یا ملازم رکھنے والے سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔