بچی ہوئی موم بتی بیچ کر امام کی تنخواہ وغیرہ میں لگانا
سوال
موم بتی وغیرہ جو ضروریات مسجد سے زیادہ ہو جائے اس کو فروخت کر کے دوسرا کام جیسے مسجد کے امام کی تنخواہ، مؤذن کی تنخواہ مسجد کی چٹائی وغیرہ میں لگانا جائز ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ یہ کام خلاف مقصود واقف ہیں، کیونکہ واقف نے صرف جلنے کے لئے دیا ہے، دیگر یہ کہ کوئی شخص کچھ زمین مسجد کے خرچ کے لئے وقف کیا اور اس کا کوئی مصرف ذکر نہیں کیا تو اس زمین کی آمدنی سے کون کون سے کام کرنے جائز ہوں گے، صرف بناء مسجد کے متعلق خرچ کرنا ہوگا، یا تنخواہ امام و موذن اور مسجد کی چٹائی، بتی وغیرہ میں بھی خرچ کرنا جائز ہوگا؟
جواب
جو شخص موم بتی مسجد کیلئے دے اس سے دریافت کر لیا جائے کہ اگر مسجد کی ضرورت سے زائد ہو تو اسے فروخت کر کے مسجد کی دیگر ضروریات میں صرف کرنے کی اجازت ہے وہ جب اجازت دیدے تو پھر کوئی اشکال نہیں مسجد کی مصالح کیلئے اگر کسی نے زمین وقف کر دی ہے، تو اسکی آمدنی کو امام کی تنخواہ، مؤذن کی تنخواہ، چٹائی، موم بتی وغیرہ میں صرف کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔