الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا تیل وغیرہ امام کو استعمال کرنا

سوال

(۱) پیش امام اور موذن وغیرہ کو تنخواہ میں جو کہ چار پانچ روپیہ کی ہوتی ہے، یا علاوہ تنخواہ کے ضرورت سمجھ کر ویسے ہی مذکورہ اشیاء یا ان کے دام متولی ان کو دے سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) اور یہاں اکثر مسجدوں میں پیش امام وغیرہ کی تنخواہ نہیں ہے، اور اکثر پیش امام مذکورہ چیزیں اپنا حق سمجھ کر اپنے گھر میں خرچ کرتے ہیں، اور ان پر اکثر مقتدی و متولی کچھ بھی اعتراض نہیں کرتے، بلکہ اکثر کہہ بھی دیتے ہیں کہ یہ آپ کا حق ہے، آپ لیجایا کریں، یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) اگر مسجد میں دینے والوں کی طرف سے اس کی اجازت ہے تو درست ہے۔ (۲) اگر مسجد میں دینے والے یہ کہدیتے ہیں، کہ یہ اشیاء ہم نے آپ کو دی ہیں، آپ اپنے گھر میں لیجا کر استعمال کر لیں تو امام کو ایسا کرنا درست ہے اور دینے والے کے علاوہ اگر دوسرے مقتدی اجازت دیتے ہیں تو انکی اجازت غیر معتبر ہے، اگر دینے والے دیتے ہیں مسجد میں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد کی اشیاء میں امام کو شرعاً اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو