مساجد کے لوٹے وغیرہ عیدگاہ میں لیجانا
سوال
زمانہ قدیم سے نظام حیدر آباد کے ذمہ سے یہاں معمول یہ ہے کہ عیدین کے موقعہ پر متولیان عیدگاہ منتظمین ان مساجد سے جہاں نماز عید نہیں ہوتی ہے، وہاں کے متولیوں کی اجازت سے جاء نماز اور وضو کے برتن وغیرہ مصلیان کے لئے لے جاتے ہیں، اور بعد نماز عید وہاں پہنچا دیتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ عمل از روئے شرع درست ہے یا نہیں، بعض لوگ معمول قدیم کو لیتے ہوئے تعامل ثابت کرتے ہیں، اور جواز کا قول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ چونکہ دور آصفیہ میں محکمہ اوقاف کے عملے اور تھے اور حکومت وقف کی اجازت سے ایسا کیا گیا،…
جواب
واقف نے اگر کوئی وقف اس تصریح کے ساتھ کیا ہو، کہ عید گاہ میں بھی اس کی آمدنی سے خرید کردہ سامان صف اور ظروف وضو وغیرہ لے جائیں، تو لیجانا درست ہے، لان شرط الواقف كنص الشارع، لیکن آج جب کہ صف اور ظروف وضوء کا نظم عوام کے چندہ سے ہے تو اس کو وقف سابق پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے جو چیز جس مسجد کیلئے دی جائے اس کو اسی مسجد میں استعمال کیا جائے، عید گاہ میں نہ لے جائیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔