مسجد کا روپیہ تجارت کے لئے دینا
سوال
مسجد کی جو رقم جمع تھی اس رقم کو متولی صاحب نے اپنے ایک رشتہ دار کو بیو پار کرنے کے لئے دیدی، اس شخص نے مسجد کا کوئی حصہ طے نہیں کیا، اس تجارت میں کافی نفع ہوا، اس نے مسجد کی رقم واپس کرتے ہوئے مبلغ ۲۲۵ روپیہ زائد دیدئے، یہ زائد رقم جو اس نے دی ہے یہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور آئندہ یہ رقم مسجد کا متولی کسی صورت سے اپنے رشتہ دار کو دے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
مسجد کی رقم متولی کے پاس امانت ہے، کسی کو بیو پار کیلئے دینے کا اس کو حق نہیں، ہرگز کسی کو نہ دی جائے، جو رقم دی تھی، وہ بطور قرض تھی، قرض میں یہ شرط کرنا کہ واپسی کے وقت اتنی رقم زائد لی جائے گی جائز نہیں، کہ یہ سود ہے، لیکن اگر بغیر شرط کے قرض لینے والا یہ کہہ کر قرض واپس کر دے کہ اتنی رقم تو قرض تھی یہ واجب الادا ہے، اور اتنی رقم میں بلاکسی التزام کے اپنی طرف سے زائد دیتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔