الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی آمدنی سے جنازہ کی چار پائی خریدنا

سوال

رواجاً مسجد میں جو سریر اور چار پائی مردوں کے نہلانے اور قبرستان لے جانے کے واسطے مہیا کی جاتی ہے وہ مساجد کی موقوفہ جائیداد کی آمدنی میں سے بنانا جائز ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وقف مساجد کے مصارف کے لئے ہوتا ہے، اور یہ چیزیں اہل محلہ اور عام مسلمانوں کی سہولت کے لئے ہوتی ہیں، تو مسجدوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا، لہذا دلائل کے ساتھ مسئلہ کی شرعی صورت تحریر فرمائیں، کہ ان امور میں وقف کی آمدنی کا صرف کرنا جائز ہوگا یا نا جائز؟ وقف ناموں میں بالعموم جزئیات نہیں ہوتیں؟

جواب

نا جائز ہے، ”ليس لقيم المسجد ان يشترى جنازة وان ذكر الواقف ان يشترى جنازة كذافي السراجيه فتاوی عالمگیری، ص ۴۶۲ ج ۲“۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو