الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی آمدنی سے تنخواہ وضع کرنے کا قانون

سوال

مسجد کا ملازم جو اذان دینے کی وجہ سے مؤذن کہلاتا ہے، مسجد کی صفائی بھی کرتا ہے، اور پانی کا انتظام بھی کرتا ہے، نیز دوسرے کام مسجد کے کرتا ہے، جن کی تنخواہ ماہوار پاتا ہے، اس کے پاس قابل کاشت تھوڑی سی زمین بھی ہے، غریب ہونے کے باعث وہ کچھ دیگر بیوپار بھی کرتا ہے، اگر وہ مسجد کے کام سے غیر حاضر رہ کر مذکورہ بالا کاموں کے علاوہ اور دوسری محنت ضروری یا ذریعہ معاش اختیار کرے تو ان غیر حاضر ایام یا اوقات کی تنخواہ مسجد کے سرمایہ سے لینے کا اسے حق ہے کہ نہیں، یا مسجد کی مجلس منتظمہ کو ایسے غیر حاضر ایام کی تنخواہ دینے…

جواب

منتظمہ کمیٹی کو لازم ہے کہ اس کے لئے چھٹی کا ضابطہ تجویز کر دے، کہ مثلاً ایک ماہ میں ایک روز یا دو روز یا سال بھر میں پندرہ روز یا ایک ماہ (جیسا حالات کے مناسب ہو) رخصت لے سکتے ہو، اس کے علاوہ غیر حاضر رہے تو تنخواہ وضع ہوگی، مسجد کا روپیہ بے محل خرچ کرنے کا اختیار نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو