لائبریری مسجد میں اور مسجد کی آمدنی سے لائبریری چلانا
سوال
یہاں پر مسجد کے ایک کمرہ میں ایک لائبریری قائم ہے جس میں کچھ مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ہے اور کچھ سیاسی اخبار تجلی اور نشیمن وغیرہ بھی پڑھے جاتے ہیں، اور ایک ملازم مقرر ہے، استفتاء یہ ہے کہ مسجد کے روپیہ سے اخباروں کی قیمت ادا کی جاتی ہے، اور مسجد ہی کے روپے سے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے، یہ لائبریری کے اخراجات مسجد کے روپیہ سے دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جو زمین جائیداد دو کان مسجد کے لئے وقف ہو یا جو چندہ مسجد کے نام پر وصول کیا گیا ہو اس سے کوئی لائبریری قائم کرنا، رسائل و اخبار منگانا اور لائبریری کے ملازم کو تنخواہ دینا شرعاً درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔