الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا روپیه سود پر قرض دینا

سوال

اگر مسجد، یتیم خانہ، مدرسہ عربی کا چندہ یا دوکان و جائیداد کی آمدنی امام مہتمم و مدرس کی تنخواہ دینے کے بعد رقم تحویل میں بچی رہتی ہے، اگر کوئی دیانتدار ہزار روپیہ یکمشت اس آمدنی سے لے بغرض تجارت اور طے شدہ رقم سالانہ مثلاً دوسو روپیہ دیتا رہے خواہ اس کو نفع ہو یا نقصان، اور جس وقت رقم طلب کی جاوے گی یکمشت ادا بھی کر دے گا، تو ایسی چندہ و آمدنی والی رقم دینا شرعاً درست ہے یا نہیں، جس کی آمدنی مدرسہ وغیرہ میں صرف ہو جس میں ترقی زیادہ ہو۔

جواب

دوسو روپے سالانہ کی جو رقم بطور ترقی و آمدنی حاصل ہو گی یہ سود ہے، سود کا معاملہ حرام ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو