مسجد کی آمدنی سے امام صاحب کا حجرہ وغیرہ بنانا
سوال
(۱) مسجد کیلئے ہمارے گاؤں کی کچھ زمین مسجد بن جانے کے بعد متفرق کاموں کے لئے وقف ہے، کسی میں مسجد بنانے کا ذکر ہے کسی میں مرمت کرانے کا ذکر ہے، کسی میں مسجد کی روزمرہ کی ضروریات کا ذکر ہے، کسی میں مسجد کی زیبائش و آرائش کا ذکر ہے، اب ان زمینوں کی مخلوط آمدنی سے نمازیوں کی سہولت کیلئے غسل خانہ، بیت الخلاء امام صاحب کی قیام گاہ وغیرہ وغیرہ بنانا درست ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) مسجد سے متعلق زمینوں کی آمدنی سے مذکورہ ضروریات بنانا اور ان میں حسب مصالح وہ روپیہ خرچ کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔