الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد کا روپیہ دوسری مسجد میں صرف کرنا

سوال

ایک گاؤں میں جامع مسجد ہے اور اس کی آمدنی مسجد کے خرچ کے علاوہ ہے اس کو کونسی کونسی جگہ خرچ کر سکتے ہیں، اور اس مسجد کے کئی لاکھ روپے بینک میں فضول پڑے ہوئے ہیں، عرض یہ ہے کہ اس روپیہ میں سے کسی غریب کی مدد کر سکتے ہیں، یا نہیں؟ یا دوسری مسجد کی مدد کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یا صرف اسی مسجد میں صرف کرے یا اور کارِ خیر میں صرف کر سکتے ہیں، کتاب کے حوالہ کے ساتھ مہربانی کر کے مسئلہ کا جواب عنایت فرماویں، یا اگر مسلمان بچوں کو اس مسجد کی آمدنی میں دنیوی یا دینی تعلیم، اور دنیاوی تعلیم میں انگریزی، گجراتی، اردو کی تعلیم…

جواب

جس وقف کی آمدنی ہے اس کا وقف نامہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ واقف نے کس کس کام میں صرف کرنے کی اجازت دی ہے، ایک مسجد کیلئے مخصوص طور پر جو وقف ہو اسکی آمدنی دوسری مسجد میں صرف کرنا جائز نہیں، لیکن مسجد کی آبادی کیلئے مسجد سے متعلق مدرسہ دینی قائم کرنا شرعاً درست ہے کہ یہ بھی مصالح مسجد میں سے ہے، هكذا يفهم ممافى بحر الرائق ص ۲۱۵/۵ دنیوی تعلیم مصالح مسجد میں سے نہیں اس میں خرچ کرنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو