الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کا روپیہ مدرسہ میں خرچ کرنا

سوال

زید ایک زمین کا مالک تھا وہ زمین مسجد کے نام وقف تھی اس کا کرایہ ایک مدت تک مسجد کو ملتا رہا ہے، لیکن موقع پر آ کر کرایہ دار سے وہ مکان خالی کرایا گیا ہے، کارکنانِ مسجد جو اس مکان کا کرایہ وصول کر کے مصارف مسجد میں صرف کیا کرتے تھے، انہوں نے زید سے خالی کرا کے زمین مدرسہ تعمیر کرنے کے لئے کارکنان مسجد کو بلا کسی معاوضہ کے دیدی، اب کارکنان مسجد نے اس زمین پر کچھ چندہ وصول کر کے اور زیادہ تر مسجد کی دیگر آمدنی سے مدرسہ تعمیر کیا ہے، اب دریافت طلب یہ ہے کہ زید نے جو زمین مدرسہ کے لئے وقف کی ہے اس پر مسجد کی دیگر…

جواب

مسجد کی آمدنی کا پیسہ مسجد ہی میں خرچ کرنا لازم ہے، مدرسہ وغیرہ کی تعمیر یا دیگر ضروریات میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے، جنہوں نے وہ پیسہ مدرسہ میں خرچ کیا ہے، وہ ذمہ دار ہیں مسجد بھی خدا کی ہے، اور مدرسہ بھی خدا کا ہے، مگر ایک کی آمدنی دوسرے کی آمدنی میں خرچ کرنا جائز نہیں، جس طرح ایک مسجد کی آمدنی دوسری مسجد میں خرچ کرنا جائز نہیں اور ایک مدرسہ کی آمدنی دوسرے مدرسہ میں خرچ کرنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو