الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد کا روپیہ دوسری مسجد میں خرچ کرنا

سوال

ہندوستان کی تمام مساجد کے وقف کا روپیہ گورنمنٹ لیجاتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس روپیہ کو قومی کاموں مثلاً کالج کھولنا، ہسپتال کھولنے میں خرچ کیا جائے،سوال یہ ہے کہ ایک مسجد کا روپیہ دوسری مساجد میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جس چیز کو جس کام کیلئے وقف کیا گیا ہو اس کو وہیں صرف کرنا ضروری ہے شرط الواقف كنص الشارع، کتب فقہ میں صراحت موجود ہے، واقف کے منشاء کے خلاف صرف کرنا درست نہیں، البتہ اگر کسی مسجد میں روپیہ زیادہ ہو جسکے ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور وہاں ضرورت نہ ہو تو ارباب حل و عقد کے مشورہ سے دوسری مسجد میں اس کو صرف کرنا درست ہے، دوسرے قومی کاموں میں اسکول وغیرہ میں صرف کرنا جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو