ایک مسجد کے لئے چندہ کر کے دوسری میں خرچ کرنا
سوال
سائل کا بیان ہے کہ یہاں محلہ کی مسجد میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے، اندرونی حصہ نمازیوں کیلئے ناکافی صحن میں گرمی کے باعث نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے،اگر چہ اب شامیانہ کا انتظام ہو گیا ہے، قبل اس کے محلے کے چند حضرات نے ملکر کچھ روپیہ جمع کیا کہ باہر سائبان بنوالیا جائے لیکن متولی صاحب جو کہ چندہ جمع کرتے وقت باہر ملازمت پر تھے وہ ریٹائرڈ ہو کر واپس آگئے وہ سائبان بنوانے کی اجازت نہیں دیتے، اینٹ ریت اور بجری وغیرہ سامان بھی آگیا اور کچھ نقد بھی موجود ہے، مسجد چونکہ نامکمل ہے مینار اور گنبد بھی نہیں ہے، متولی صاحب مینار…
جواب
اگر سائبان بنانے کی مصلحت نہیں ہے تو جن لوگوں نے سائبان بنانے کیلئے چندہ دیا ہے ان کی اجازت و مرضی سے اس روپیہ کو کنویں کی مرمت نل وغیرہ میں صرف کر دیا جائے، یا دوسری مسجد میں دیدیا جائے، اسی طرح اینٹ بالو وغیرہ سامان کا حکم ہے، کہ ان کی اجازت کے موافق صرف کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔