الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد کی آمدنی دیگر مساجد پر صرف کرنا

سوال

ہمارے شہر میں ایک مسجد شاہی وقت کی ہے، اور عرصہ سے ایک رجسٹرڈ انتظامیہ کمیٹی کے زیر نگرانی ہے، اور شہر کی چھ مسجدیں اور ایک مسجد دیہات کی بھی اسی کمیٹی کے زیر انتظام ہے، ان مساجد کی آمدنی میں تین قسم کی جائیداد ہیں (۱) مسجد سے ملحق کوٹھریاں اور دوکانیں، (۲) موقوفہ مکانات (۳) مسجد کی آمدنی سے خرید کردہ مکانات انتظامی عملہ کی تنخواہ جامع مسجد سے دی جاتی ہے، اس کے علاوہ دیگر اخراجات و آمدنی کا حساب ہر مسجد کا الگ الگ رہتا ہے، اور حتی الوسع یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ہر مسجد کا آمد و خرچ متوازن ہو مگر سب ہی مسجدوں میں…

جواب

(۱) اس کی اجازت نہیں ”اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه بسبب خراب وقف احدهماجاز للحاكم ان يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه لانها حينئذ كشيء واحد وان اختلف احدهما بان بني رجلان مسجدين اورجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما اوقافا لا يجوز له ذلك (درمختار، ص ۳/۳۷۲) “ ہاں اگر بالکل فاضل ہو، حفاظت دشوار ہو، ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کی اجازت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو