مسجد کے لئے چندہ کر کے مدرسہ بنانا
سوال
عمر مسجد بنوانے کی فکر میں تھا، برابر اس کیلئے جدوجہد بھی کرتا رہا، کچھ حصہ مسجد کا تعمیر بھی ہو گیا، لیکن ابھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچی تھی، کہ اس نے اسی مسجد میں مدرسہ کی بنیاد ڈالی، اور الحمد للہ ۳۶ رطلبہ بھی داخل ہو گئے جس میں کچھ مستطیع اور غیر مستطیع طلبہ بھی شامل ہیں، یعنی کچھ تعلیم کی فیس ادا کر سکتے کچھ نہیں، اور اس رمضان المبارک میں عمر نے مدرسہ کے لئے چندہ بھی کیا جس میں زکوۃ، صدقات، اعانت کی رقم شامل ہے لیکن مد زکوۃ کی رقم زیادہ ہے تو خیال یہ ہے کہ مسجد پوری تعمیر ہو جائے اور اس میں فی الحال مدرسہ قائم…
جواب
مسجد کے لئے جو چندہ کیا جائے، اس کو مدرسہ میں صرف کرنا جائز نہیں، مدرسہ کیلئے جو چندہ کیا جائے، اس کو مسجد پر صرف کرنا جائز نہیں ہے جو جگہ نماز کیلئے مقرر ہو جائے وہاں مدرسہ بنانا اور تعلیمی کام کیلئے اس جگہ کو متعین کر دینا جائز نہیں، اس جگہ ایسے چھوٹوں کو بھی تعلیم نہ دی جائے، جو مسجد کا احترام باقی نہ رکھ سکیں، زکوۃ، صدقۃ الفطر، قیمت چرم قربانی کو مدرسہ یا مسجد کی تعمیر میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔