قیمت شراب سے بنی ہوئی مسجد میں نماز
سوال
زید مسلمان شراب کی بیچ کرتا ہے، اور بہت دولتمند ہو گیا ہے، پنجگانہ نماز پڑھتا ہے، مگر فی الحال زید خود نہیں کرتا، نوکر واقرباء کرتے ہیں، مگر زید ہی کے حکم سے کرتے ہیں، کیا اس کی مسجد میں ہم مسلمانوں کی نماز ہوگی اور مسجد میں جو روپیہ صرف ہوا ہے، وہ شراب کا روپیہ ہے، ہمارے یہاں کے علماء فرماتے ہیں کہ اس کی عبادت قبول بھی نہیں ہوگی، اس کی مسجد میں نماز پڑھنے سے نماز بھی نہیں ہوگی۔
جواب
اگر وہ مسجد شراب کی آمدنی سے بنائی گئی ہے، تو اسمیں نماز پڑھنا مکروہ ہے، جو نمازیں وہاں پڑھی گئیں ہیں وہ بکراہت ادا ہو گئیں، آئندہ احتیاط کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔