مسجد کے لئے سودی قرض
سوال
علاقہ گنگوہ کے ایک قریہ بہادر نگر میں ایک مسجد تعمیر ہورہی ہے اسکی تعمیر کے صرفہ کی صورت یہ ہے کہ اہل قریہ نے تعمیر مسجد کے لئے فی الحال کچھ غلہ معین کر کے بطور چندہ غلہ فراہم کیا تھا کہ اس کو بیچ کر مسجد کی تعمیر کرینگے کچھ دنوں غلہ جمع رہا جب کے بعض لوگوں کو خورد ونوش کی تنگی ہوئی اور بھو کے مرنے لگے تو ان کو وہ غلہ ادھار دیدیا، وعدہ پر کہ موجود فصل میں ادا کر دینا چونکہ مسجد کیلئے اینٹیں خریدی ہوئی موجود تھیں گاؤں والوں نے تعمیر شروع کرادی جب معمار اور مزدوروں نے مزدوری مانگی تو لوگوں نے کہا کہ مسجد کا پیسہ…
جواب
سودی قرض تو شرعاً نا جائز ہے، لیکن اسطرح قرض لے کر جو معماروں اور مزدروں کی اجرت ادا کی گئی ہے، اور اس قرضہ سے مسجد کیلئے چونہ وغیرہ خریدا گیا اس سے اس مسجد کی نماز ممنوع نہ ہوگی، بلکہ نماز اس میں درست ہے، سودی قرض لینے سے آئندہ اجتناب کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔