الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعمیر مکان کے لئے مسجد کمیٹی کا سود پر رقم لینا

سوال

سابقہ مسجد کمیٹی نے مکان تعمیر بابت بدرجہ مجبوری کچھ رقم ریزرویشن کر کے با قاعده قانونی لکھا پڑھی کر کے ایک ساہوکار سے بیاج پر اٹھالی تھی، اور نہ وہ رقم اور نہ ہی وہ سود ادا کر پائی تھی، کہ نیا الیکشن ہوا، اور کمیٹی بدل گئی، اور برسر اقتدار کمیٹی میں دوسرے لوگ آگئے، تو ساہوکار اب اپنی رقم مع سود موجودہ کمیٹی سے طلب کر رہا ہے، تو کیا مع سود وہ رقم موجودہ کمیٹی ادا کرے جبکہ شرعی حکم ہے کہ سودی لین دین دونوں نا جائز ہیں، تو اب اگر ہم ساہوکار کی رقم مع سود ادا کر دیں تو خدا کی گرفت میں آئیں گے یا بچ سکیں گے؟

جواب

اس کی ذمہ داری سابقہ کمیٹی پر ہے، جس نے سود پر مسجد کے لئے رقم لی ہے، اگر یہ صورت کسی طرح ممکن ہو کہ مسجد کی طرف سے اصل رقم موجودہ کمیٹی دیدے اور سود سابقہ کمیٹی اپنے پاس سے دیدے یا معاف کرا لے تو آپ لوگ بالکل بچ جائیں گے، یہ نہ ہو سکے تو موجودہ کمیٹی مجبور ہے۔ پھر اعلی بات یہ ہے کہ سود مسجد کی طرف سے نہ دیا جائے بلکہ کمیٹی آپس میں چندہ کر کے اس مصیبت کو برداشت کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو