سود خور کو تر کہ میں ملی رقم مسجد میں لگانا
سوال
ایک سود خور کو اپنے والدین سے جو ترکہ ملا ہے وہ اس سے خاص کر کے مسجد کے کاموں میں لگانا چاہتے ہیں، کیا اس کے روپے کو مسجد میں لگایا جا سکتا ہے؟ واضح رہے کہ اس سود خور کے روپے کا حساب نہیں ہے، کہ اصل کتنا ہے، اور سود کتنا ہے، اور وہ اس روپے سے کھیتی باڑی کرتا ہے؟
جواب
والدین کے ترکہ سے جو حلال روپیہ ملا ہے اگر وہ روپیہ مسجد میں دے تو اس کا مسجد میں صرف کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔