سودی قرض پر لیا روپیہ مسجد کے ضمان میں دینا
سوال
ایک آدمی کے پاس مسجد کی امانت کا روپیہ جمع تھا انہوں نے اس کو خرچ کر ڈالا، اس امین صاحب نے ایک دوسرے آدمی سے سودی قرض لیکر مسجد کی امانت کے روپے کو واپس کر دیا، کیا اس روپے کو مسجد میں خرچ کرنا جائز ہوگا؟
جواب
سود پر قرض لیا گیا ہے وہ قرض کا روپیہ حرام نہیں، اس کو مسجد کے روپیہ کے ضمان میں دینا درست ہے، البتہ قرض کے ساتھ جو روپیہ سود کا دیا جائے گا، اس کا دینا نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔