الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود کا پیسہ مسجد کی روشنی وغیرہ میں لگانا

سوال

(۱) تقریباً پندرہ سال ہوتے ہیں ہماری مسجد میں سود خوروں کے پیسہ سے بجلی کی فٹنگ و پنکھا لگا ہوا ہے، شرعاً یہ حرام ہے یا نہیں؟ اس بجلی کی روشنی اور پنکھے کے نیچے نماز ہوگی یا نہیں؟ (۲) آج تک جو نمازیں پڑھی گئی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

ناجائز آمدنی کا پیسہ مسجد میں لگانا درست نہیں، اگر بجلی کی فٹنگ اور پنکھے میں ناجائز پیسہ لگایا گیا ہے، تو جس نے لگایا ہے وہ پنکھا یہاں سے لے جائے، اور حلال کمائی سے لگایا جائے، بجلی کی فٹنگ میں مٹیریل اور تار بلب جو کچھ بھی وہاں موجود ہے اس کو نکال کر جائز آمدنی سے لگایا جائے، اگر ایسا کرنے میں فتنہ ہو تو مجبوراً یہ صورت کر لی جائے، کہ جتنا پیسہ اس میں خرچ ہوا ہے وہ پیسہ سود…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو